ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بیف کھانا ہے تو کھائو، مگر اس کا جشن کیوں ؟ نائب صدر وینکیا نائیڈو نے پوچھا سوال؛ کہا میں بھی گوشت خور ہوں

بیف کھانا ہے تو کھائو، مگر اس کا جشن کیوں ؟ نائب صدر وینکیا نائیڈو نے پوچھا سوال؛ کہا میں بھی گوشت خور ہوں

Tue, 20 Feb 2018 14:33:20    S.O. News Service

نئی دہلی۔20/ فروری(ایس او نیوز/ایجنسیز) نائب صدر جمہوریہ وینکیا نائیڈو نے بیف یا کِس فیسٹول منانے پر سوال کھڑا کرتے ہوئے پوچھا  کہ اگر آپ کو بیف کھانا ہے تو شوق سے کھائیے، بوسہ لینا ہے تو لیجئے، مگر  اس کے لئے فیسٹول منعقد کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟

واضح رہے کہ نریندرمودی کی قیادت والی مرکز کی بی جے پی حکومت نے وزارت کے عہدے پر فائز رہنے کے دوران بیف تنازع پر بھی انہوں نے کہاتھاکہ وہ خود بھی گوشت خور ہیں اورسب کو اپنی پسند کا کھانا کھانے کا حق ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھاکہ مجھے کبھی بھی کسی نے گوشت کھانے سے نہیں روکا کیونکہ ہر آدمی یہ چاہتا ہے کہ کھانے پینے کا تعلق انفرادی زندگی سے ہے نہ کہ اجتماعی زندگی سے۔

اس پروگرام کے دوران انہوں نے افضل گروکو پھانسی دئے جانے کی مخالفت میں منعقد ہونے والے پروگراموں کی مذمت بھی کی۔ انہوں نے کہاکہ ملک کی پارلیمنٹ پر حملہ کرنے والے کو عدالت نے مجرم قرار دیا اور پھر اسے پھانسی دے دی گئی ایسے میں اس شخص کے دفاع کے لئے پروگرام کے انعقاد کا مقصد کیا ہے ۔ انہوں نے اس موقع پر یہ بھی کہاکہ بوسہ لینا انفرادی عمل ہے اس کے لئے فیسٹیول کا انعقاد ہندوستانی تہذیب کے خلاف ہے۔

 خیال رہے کہ ایک طرف ملک میں ہندوتوا ذہن رکھنے والے عناصر بیف کھانے پرپابندی لگانے اورگائے کے ذبح کرنے والے کو سرعام گولی مارنے کا اعلان کررہے ہیں، مگر ایسے میں  ملک کے نائب صدر وینکیا نائیڈو نے صاف کیا ہے کہ بیف کھانا یا نہیں کھانا انفرادی عمل ہے اور کسی کو  گوشت کھانے سے نہیں روکا جاسکتا۔


Share: